(Akhtar Asifi Peshawari)
Selected Poems
بات کرو
دیارِ غیر نہ چین رختن کی بات کرو
جو بات کرنی ہے اپنے وطن کی بات کرو
احبابِ پشاور کے نام
جا کے دیکھ اے قاصدِ طرار میرے شہر میں
کیسے ہیں احرار و اور ابرار میرے شہر میں
آئینه گفتار
نہ جیبِ چاک نہ دامانِ تار تار کو دیکھ
جنوں نواز ہے کتنی میری بہار کو دیکھ
کل اور آج
کل نظر آتے تھے جو حق کے طرفداروں میں
آج شامل ہیں وہ باطل کے پرستاروں میں
شاخِ بریده
بربادِ اضطراب ہوں حرماں رسیدہ ہوں
بیتابی فراق کا زحمت کشیدہ ہوں
محبت والے وہ
مسکرا دینا ذرا اے سانولی صورت والے
لذت زخم سے واقف ہیں محبت والے
نوحه وطن
نظر آتا ہے کچھ بدلا ہوا رنگ چمن ساقی
یہ کیوں بیگانہ بیگانہ ہیں یاران وطن ساقی
نعت
طیبہ میں جذبہ صادق کا اثر دیکھیں گے
کیسی ہوتی ہے محبت کی نظر دیکھیں گے
چونچ دیکھ کر
نظم بہتر نثر خوشتر دیکھ کر
خوش ہوئے ہم چونچ پیپر دیکھ کر
بے وطن کی عید
زرے زرے سے نمایاں ہے عجب جوش و خروش
عید آئی عام ہے امروز فیضِ مے فروش
ضبط کر نالہ کہ محشر خیز ہے
عشق کا سودا جنوں انگیز ہے
اس کا جلوہ کیا بہار امیز ہے
وہ اور ہم
وہ حوصلہ اہل وفا دیکھ رہے ہیں
ہم تیزی شمشیر جفا دیکھ رہے ہیں
اخترؔ دیوانہ
تو بہ ہو جائے نہ نذر شیشہ و پیمانہ آج
مہرباں ہے میکشوں پر ساقی میخانہ آج
رنگون
سر میں اے ساقی سمائی ہے ہوا رنگون کی
مئے پلا ایسی کہ جو ہو رہنما رنگون کی
دعوتِ حق
آؤ دیوانو! نشاطِ روح کا ساماں کریں
مِل کے لیلائے وطن پر جان قربان کریں
نکات
اب وہ پہلی سی ان کی بات نہیں
وہ توجه وہ التفات نہیں
مُسلم کے نام
ایکہ تیرے ہاتھ میں تھا تمام دنیا کا نظام
ایکہ تو بدسخبت تھا اقوامِ عالم کا امام
بھگوان رام
آہ۔کیا یاد کرے ساقیِ گلفام ترا
قطرے قطرے کو ترستا ہے تہی جام ترا
بہار دیکھنے والے بہار دیکھیں گے
وہ اپنی ترچھی نگاہوں کا وار دیکھیں گے
ہم اپنے سینہ و دل کو فگار دیکھیں گے
چند قطرات اشک
کائناتِ دِل کو رنج و غم کی دنیا کر دیا
اشک خونی کے ہر اک قطرے کو دریا کر دیا
اعترافِ حق
مرحبا اے فخر سرحد اے حرم کے پاسبان
ہے تری ذات گرامی نازش اسلامیاں
ذوقِ تپش
اگر ذوقِ تپش ہے آتش غم تیز کرتا جا
مئے حب وطن سے جامِ دل لبریز کرتا جا
وطن اپنا
گلستانِ ارم سے تھا کبھی بڑھ کر وطن اپنا
مگر اب ہوگیا ہے سربسر گُلخن چمن اپنا
بوالہوس کے نام
ظرف حالی نہیں تیرا ہوس۔۔۔نکر
بوالہوس مشربِ رندانہ کو بدنام نکر
راز محبت
رہ گیا راز محبت کا نمایاں ہو کر
دیدہ تر نے ڈبویا مجھے گریاں ہو کر
آج
ہے دل کے آئینے پر جو گردِ ملال آج
شاید عدو کے گھر میں ہے وہ خوش جمال آج
آج اور کل
کل نظر آتے تھے جو حق کے طرفداروں میں
آج شامل ہیں وہ باطل کے پرستاروں میں
دوستی
کیا ہی غم افزا ہے ترتیب کتاب دوستی
مشتمل ہے رنج پر القصبہ باب دوستی
نغمہ نشاط
پردہ شب سے ہوئی ہے صبح سعادت آشکار
چھا گئی سارے وطن پر رحمت پروردگار
رنگ جدید
صورت سے وہ ہماری بیزار ہو گئے ہیں
ہر چند ہم سراپا ایثار ہو گئے ہیں
مولانا کوثر نیازی
میرا عشق ہے حقیقی نہ کہو اسے مجازی
کہ مجاز اور حقیقت میں ہے فرق امتیازی
مہاجروں کی عید
دیار شوق سے باد سحر پیغام لائی ہے
کہ گلزار جہاں پر پھر بہار عید چھائی ہے
جنابِ عزیز
اب مخاطب ہے مرا تو اے سخن گر عزیز
شعر تیرا خانہ زاد اور شاعری تیری کنیز
رام جی
رام جی میری نگاہوں میں پھرا کرتے ہو تم
غمزدہ دل کو مسرت آشنا کرتے ہو تم
ناگپور
اے پرستانِ محبت اے زمینِ ناگ پور
اے پری زادوں کے مسکن جنت حور و قصور
طرفہ قریشی
سرزمیں پر تیری ہے طرفہ قریشی کا مکاں
رہنمائے منزل دل جس کے قدموں کے نشاں
جناب حبیب
السّلام اے فخرِ اربابِ محبت اے حبیب
آنکھ اوجھل ہے تو کیا توہے مرے دل کے قریب
سهرا
بندھا ہے کس کی جبیں نیاز پر سہرا
سکوں پذیر ہے معراج ناز پر سہرا
بیچارگی (ہندوستان)
خموشی کا سماں ہے اور میں ہوں
دیار خفتگاں ہے اور میں ہوں
ترانہ وحشت
دشت کا ذکر چھیڑا ہے تو نے تو ہم نشیں
آ پہلے اپنے سر کو ادب سے جھکائیں ہم
آسودگی (پاکستان)
وطن کا بوستان ہے اور میں ہوں
دیار گل رخاں ہے اور میں ہوں
شکایت ہے
گلوں سے ہے گلہ مجھکو نہ خاروں سے شکایت ہے
مرے دامانِ خالی کو بہاروں سے شکایت ہے
گل بھی خوش ہے تاج بھی ہے
نوشہ بن کر آیاز آیا
ہیرا بھی پکھراج بھی خوش ہے
سهرا (آیاز محمد )
رُخِ آیاز کا آئینہ دار ہے سہرا
بہار حسن سے کیا پر بہار ہے سہرا
شعر و شاعر
جب فطرت کے گہوارے میں آرام سے دنیا سوتی ہے
آرام سے دنیا سوتی ہے جب محو راحت ہوتی ہے
تضمين
آنسو کا ہر اک قطرہ بنتا ہے شراب آخر
اور دور میں آتا ہے جامِ مئے ناب آخر
ساقی
نہ وہ صحرا نوردی ہے نہ وہ جوش جنوں ساقی
پلا میخوار کو پھر اپنے جام لالہ گوں ساقی
نظم
نظر اسی کی نظر ہے بیشک جو دیکھے ہر شے کو منصفانہ
وہ کور باطن نہیں مبصر نظر جو رکھتا ہو حاسدانہ
الہامِ پاکستان
تصور تو کرو کیا روح پرور وہ سماں ہوگا
زمیں جب اپنی ہوگی اور اپنا آسماں ہوگا
سہرا
گلزار جہاں سربر ہوا پیغام صبا کیا لائی ہے
ہر پتہ پتہ تازہ وتر کلیوں پہ جوانی آئی ھے
قصیده مولودِ کعبہ
زمیں سے مل رہی ہیں سرحدیں کیوں چرخِ اخضر کی
یہ کیا کہتی ہیں پیہم جنبشیں جبریل کے پر کی
فردوس خیال
ہائے اس گل عذار کا عالم
دیدنی ہے بہار کا عالم
خاکِ پشاور
عنصر خاکی کو تعمیر عناصر کا سلام
نفسیات شوق کے دیرینہ ماہر کا سلام
مہاجر کی شہادت
وہ مرد مجاہد لیاقت علی خاں
بہ مذہب مسلمان بہ مسلک مسلمان
بہاروں کو کیا کروں
ساقی ترے اداس اشاروں کو کیا کروں
جو دیں نہ پھول ایسی بہاروں کو کیا کروں
ترے جمال سے روشن دلوںکے کاشانے
جنوں کی ہوسکے تحقیق کس سے دیوانے
بنیں گے ایک حقیقت سے لاکھ افسانے
نذر الاسلام
وہ انقلاب مجسم وہ باغیوں کے نقیب
وہ برق خرمن باطل وہ شاعر اسلام
بارگاہ اقبال میں
لے مرا اے شاعر اعظم سلام
واقف اسرار کیف و کم سلام
حاصل جوانی
مرے دل پر ثبت کرتا ہے نقوش غیر فانی
یہ طریقہ نوازش ادائے مہر بانی
پروانوں کی بات
اس قدر الفت کے الفت کے دیوانونکی بات
شمع نے محفل میں پھر چھیڑی ہے پروانوں کی بات
وداع و وصل
سمجھنے کیوں لگا اس شب کو میں شب یلدا
ہو جس کے پردے میں صبح مراد جلوہ نما
کلثوم کی رخصتی
عروس زندگی گھونگھٹ نکالے کیا ادھر آئی
طرب خانے میں جیتی جاگتی رونق نظر آئی
دعوت
پھر بہار رفتہ کی دعوت کا ساماں کیجئے
شام تنہائی کو پھر صبح گلستاں کیجئے
عید
آج ہے اقصائے عالم میں مسلمانوںکی عید
اے چراغ بزم وحدت تیرے پروانو کی عید
بہار عيد
فضا ہے جلوه در آغوش جلوه گل بکنار
یہ کس کے وصل کی پیغام بر بنی ہے بہار
ہندوستاں چھوڑا
چمن چھوڑا چمن میں تھا جو اپنا آشیاں چھوڑا
ہوابے رخ جو توہم نے سبھی کچھ ہاعباں چھوڑا
یوم اقبال پر
شوق کی کیا انتہا ہوگی کہاں سمجھا تھا میں
آرزو کو راحت و آرام جاں سمجھا تھا میں
ڈھاکہ
زبان دل بنے اور دل زبان ہو جائے
تو مجھ سے عظمت ڈھاکہ بیان ہو جائے
غزل 1
تر لبِ تشنہ کو کرنا چاہیے
ساقیا رندوں کو صہبا چاہیے
غزل 2
اس ادا سے وہ چمن میں جلوہ ساماں ہو گیا
ہر شگوفہ گل ہوا ہر گل گلستاں ہو گیا
غزل 3
غم فراق کہ صدمے اُٹھائے جاتے ہیں
نبھانی ہے محبت نبھائے جاتے ہیں
غزل 4
گھٹا ہے توبہ شکن موسم بہاراں ہے
جو ایسے میں نہ پیئے مے وہ نامسلماں ہے
غزل 5
ربط کم ظرفوں سے رکھنے میں زیاں ہوتا ہے
دل کا ہر راز یہاں نوکِ زباں ہوتا ہے
غزل 6
شرح مختاری سرکار کروں یا نہ کروں
اپنی مجبوری کا اظہار کروں یا نہ کروں
غزل 7
رسمِ اربابِ محبت کی جو پروا نہ کریں
اُن سے کہہ دو کہ محبت کا وہ دعوی نہ کریں
غزل 8
تحیر کے سوا مدِ مقابل جلوہ کا کیا ہے
اگر پردہ اُلٹ دو تم تو پھر پردہ ہی پردہ ہے
غزل 9
کچھ پھول ہیں شگفتہ نہیں ہیں بہار میں
موسم کا ہے کرشمہ عیاں خار خار میں
غزل 10
پھر رہے ہیں اہلِ دِل ناکام تیرے شہر میں
نام تیرا ہوتا ہے بدنام تیرے شہر میں
غزل 11
کرتا نہیں میں عشق کا اظہار اِس ڈر سے
ایسا نہ ہو گر جاؤں ستمگر کی نظر سے
غزل 12
کب میں نے کہا دل میرا دیوانہ نہیں ہے
ہاں رسم و ره عشق سے بیگانہ نہیں ہے
غزل 13
سحرِ عید کا آنکھوں میں سماں پیدا ہے
تم نظر آئے ہو یا چاند نظر آیا ہے
غزل 14
کیا فسوں نگاہ جانانہ ہو گئی ہے
مخلوق جیسے ساری دیوانہ ہو گئی ہے
غزل 15
میں عرض مدعا تو کروں آ کے سامنے
بنتی کہاں ہے بات تیری کیا کے سامنے
غزل 16
میں نے جب بھی تجھے اے راحتِ جاں دیکھا ہے
دل میں جذبات کا سیلاب رواں دیکھا ہے
غزل 17
چہرے پر بیکلی بھی اگر رونما ہوئی
یہ جان لو کہ روحِ محبت فنا ہوئی
غزل 18
کس قدر دلچسپ ہے ان سوختہ جانوں کی بات
شمع نے محفل میں پھر چھیڑی ہے پروانوں کی بات
غزل 19
چشم ساقی کے تصور میں رہا کرتے ہیں
بادہ شوق کو ہم روح فزا کرتے ہیں
غزل 20
نالے ہیں بے خروش دعا میں اثر نہیں
آئے کہاں سے روز گرہ میں جو زر نہیں
غزل 21
بیقراری کا سبب اے دل ناداں کیا ہے
آخر اس مفت کے سردرد کا درماں کیا ہے
غزل 22
مدت اگر بڑھائی گئی انتظار کی
چھانوں گا خاک جا کے تیرے رہگزار کی
غزل 23
یہ کیسا دور ہے ساقی یہ کیا دستور ہے ساقی
کسی کے پاس ہے تو اور کسی سے دُور ہے ساقی
غزل 24
داغ بن کر دل مخروں میں فروزاں ہوں گے
جو ستارے سرِ مژگاں نہ درخشاں ہوں گے
غزل 25
غلط ہے اے دل بدگماں کہ وہ ملتفت بہ کرم نہیں
یہ کرم نہیں کہ مرے سوا کوئی اور وقفِ ستم نہیں
غزل 26
عبث ہیں دیر و حرم کے جھگڑے وہ ان گھروں میں کہیں نہیں ہے
خدا کا جلوہ بجز محبت قسم خدا کی کہیں نہیں ہے
غزل 27
دلِ بے نیاز فکرِ ثواب و عذاب ہے
ساقی پلا شراب کہ عہد شباب ہے
غزل 28
مجھ کو غم سے رہا کرے کوئی
کاش میرا کہا کرے کوئی
غزل 29
کیا کہیں ہم تجھے کیوں مائل فریاد نہیں
تری بیداد ہمارے لئے بیداد نہیں
غزل 30
عنبریں زلفت کہاں چشمِ سیہ کار کہاں
چور نافے کا ہے یہ آہوئے تار کہاں
غزل 31
شرم آئی نہ تمہیں عشق کا چرچا کرتے
مر بھی جاتے تو نہ اس راز کو افشا کرتے
غزل 32
تپ فرقت سے ہم یوں رہ گئے ہیں ناتواں ہو کر
کہ اب تو آہ بھی منہ سے نکلتی ہے دھواں ہو کر
غزل 33
جادہ عشق میں ترے ہمہ تن جوش ہوں میں
پھر بھی یہ ضبط کا عالم ہے کہ خاموش ہوں میں
غزل 34
ہلاکِ غمزہ ہائے دلربا ہوں
قتیل خنجرِ ناز و ادا ہوں
غزل 35
میں حسن و عشق کے جذبات کا قاتل نکل آیا
دل اپنا کھو کے تیری بزم سے بیدل نکل آیا
غزل 36
ترا بے پردہ ہو کر یک بیک روپوش ہو جانا
مرے جذبات کا ہنگامہ در آغوش ہو جانا
غزل 37
اگر ذوق تپش ہے آتش غم تیز کرتا جاتا
مئے حبِ وطن سے جام دل لبریز کرتا جاتا
غزل 38
خوش ہوں اپنا اوج اخترؔ دیکھ کر
دامنِ طفلاں میں پتھر دیکھ کر
غزل 39
شب فرقت حشر انگیز تھی آہ فغاں مری
زمیں سے جھک کے کرتا تھا شکایت آسماں مری
غزل 40
ہے کسی محو نوحہ خوانی ہے
قبر عاشق کی یہ نشانی ہے
غزل 41
محو گلگشت جو وہ سرو خراماں ہوتا
اس کے سایہ کے عوض ساتھ گلستاں ہوتا
غزل 42
ہنس ہنس کے وہ غیروں سے جو کرتے ہیں اشارے
پہلو میں مرا جاتا ہے دل رشک کے مارے
غزل 43
ان کے جلوے جو تصور میں نظر آتے ہیں
ہو بہو صفحہ خاطر پہ اتر آتے ہیں
غزل 44
جگر میں سینے میں دل میں تجھے آباد کرتے ہیں
تو رنج ہم تری اے نازک جلاد کرتے ہیں
غزل 45
سب ہیں کوشش میں نہ ہو جائیں کشش بیگانہ ہم
کعبہ ہم آتشکدہ ہم دیر ہم مے خانہ ہم
غزل 46
غم دوست ہے سلامت تو خوشی کی کیا کمی ہے
یہ نشاطِ غیر فانی یہ سرورِ سرمدی ہے
غزل 47
زرافشاں مانگ بزم کہکشاں معلوم ہوتی ہے
زمین کوئے جاناں آسماں معلوم ہوتی ہے
غزل 48
عبث ہیں دیر وحرم کے جھگڑے وہ ان گھروں میں کہیں نہیں ہے
خدا کا جلوہ بجز محبت قسم خدا کی کہیں نہیں ہے
غزل 49
جی سے بیزار ہمارا دل ناشاد نہیں
زندگی کا سہارا خلش یاد نہیں
غزل 50
نظر جس بادہ کش پر ساقی مخمور کرتا ہے
اسے بے منتِ صہبا نشے میں چُور کرتا ہے
غزل 51
بھری محفل میں زارِ عشق کا اظہار ہو جانا
وہ اس کافر کا میری شکل سے بیزار ہو جانا
غزل 52
رموزِ سرفروشی خوب اہل دِل سمجھتے ہیں
مجھے بسمل سمجھتے ہیں تجھے قاتل سمجھتے ہیں
غزل 53
دِل محفل عشرت میں بھی مسرور نہیں ہے
پہلو میں جو وہ ساقئی مخمور نہیں ہے
غزل 54
جوبن آتے ہی حسینوں کو حجاب آتا ہے
شرم کو ساتھ لئے ان کا شباب آتا ہے
غزل 55
ہوش بھی اپنا ہے بجا دِل بھی ہے اختیار میں
وصل سے بڑھ کے لطف ہے یار کے انتظار میں
غزل 56
دِل مبتلائے گیسوئے جانانہ ہو گیا
کمبخت ہوشیار سے دیوانہ ہو گیا
غزل 57
نازنینوں کی اگر دِل میں نہ الفت ہوتی
اِس قدر زار نہ اخترؔ تری حالت ہوتی
غزل 58
حُسنِ فانی پہ غرور اے بُتِ بے پیر نہ کر
اس طرح جذبہ عشاق کی تحقیر نہ کر
غزل 59
ستم ٹوٹا ہوئیں اس شوخ سے جب مری چار آنکھیں
جگر میں ہوک اٹھی ہوگئیں خونابہ بار آنکھیں
غزل 60
گلوں سے رنگ تو مستی لبوں سے لی میں نے
شباب و شعر کی تصویر کھینچ دی میں نے
غزل 61
جس نے دیکھا اس طرف بسمل بنا
وہ حسیں نا خواستہ قاتل بنا
غزل 62
نشانِ مرقد عاشق کی جستجو کرتے
وہ خاک چھانتے فریاد کو بکو کرتے
غزل 63
نہ کیوں مرغ چمن منقار اپنی زیر پر رکھے
صدائے زاغ پر بھی جب ملے داد غزل خوانی
غزل 64
سنیں ہم پر تَنِک ظرفی کا جو الزام دھرتے ہیں
یہ آہیں ہم نہیں کرتے دم اس کافر کا بھرتے ہیں
غزل 65
مرے شوق کو ہے شورش ترے عشوو ادا سے
مرے دل میں ہے قیامت تری چشم فتنہ زا سے
غزل 66
فغاں میں، آہ میں، فریاد میں آخر اثر دیکھا
کہ ہم نے مہرباں آج ان کو اپنے حال پر دیکھا
غزل 67
جس سے واقف وہ مستِ ناز نہیں
وہ میرا شیوه نیاز نہیں
غزل 68
پہنچا نہ بزمِ ناز میں گو تا فلک گیا
نالہ جو دل سے ہجر میں نکلا بھٹک گیا
غزل 69
تحیر کے سوا مدمقابل جلوہ کا کیا ہے
اٹھا دو تم اگر پردہ تو پھر پردہ ہی پردا ہے
غزل 70
بیگانہ وار پھر گئے محفل میں لا کے ساتھ
اچھا سلوک تم نے کیا آشنا کے ساتھ
غزل 71
دیکھتا ہوں دست ساقی میں چھلکتا جام ہے
توبہ توبہ توبہ تو کیوں لرزہ براندام ہے
غزل 72
ملنے کا کیا مزا جو نہ جی کھول کر ملے
ہاں دل سے دل ملے تو نظر سے نظر ملے
غزل 73
کرنیں کچھ آفتاب کی لائے اڑا کے ساتھ
ذرے جو اڑتے پھرتے ہیں موج ہوا کے ساتھ
غزل 74
دور چلتا ہے زمین پر آسماں پر جام ہے
مہر گویا کو کب تقدیر مئے آشام ہے
غزل 75
کہتے ہیں اہل دل مجھے دیوانہ آپ کا
یعنی خراب نرگس مستانہ آپ کا
غزل 76
زرافشاں مانگ بزم کہکشاں معلوم ہوتی ہے
زمین کوئے جاناں آسماں معلوم ہوتی ہے
غزل 77
مرے شوق کو ہے شورش ترے عشو و ادا سے
مرے دل میں ہے قیامت تری چشم فتنہ زا سے
غزل 78
عبث ہیں دیر و حرم کے جھگڑے وہاں گھر میں مکیں نہیں ہے
خدا کا جلوہ بجز محبت قسم خدا کی کہیں نہیں ہے
غزل 79
انگور کے دانے ہوں کہ انجیر کے دانے
مل جائیں گے مجھ کو میری تقدیر کے دانے
غزل 80
جی سے بیزار ہمارا دل ناشاد نہیں
زندگی کا سہارا خلش یاد نہیں
غزل 81
جو مجھ سے پوچھا گیا اس کو کیا دیا میں نے
تو اس کی یاد میں خود کو بھلا دیا میں نے
غزل 82
غنچے سے پوچھ دیکھو گلستان سے کہو
وہ جان صد چمن ایمان سے کہو
غزل 83
حسن میں ثانی اگر چہ آپ کا کوئی نہیں
ہم بھی وہ عاشق ہیں ہم سا باوفا کوئی نہیں
غزل 84
نیاز بندگی ناز آفریں ہے
وہ نقشِ پا ہے اور میری جبیں ہے
غزل 85
ہوں تو باکیف گدائے در میخانہ سہی
مئے کی تلچھٹ سہی چلو مرا پیمانہ سہی
غزل 86
میکشوں کو جب خیال زلف ساقی آگیا
جھوم کرابر سیہ بادہ کدے پر چھاگیا
قطعہ 1
غم عشقِ بتاں کو اور یہی یا رب سوا کر دے
دیا ہے درد گر تو نے تو اُس کو لادوا کر دے
قطعہ 2
تلافیِ ستمِ روزگار کرتا ہوں
خزاں کے دور کو رشکِ بہار کرتا ہوں
قطعہ 3
جس دل پہ فسوں چل نہ سکے حسن پری کا
دیوانہ ہے وہ آپ کی جادو نظری کا
قطعہ 4
وہ دل جو مسخر نہ ہوا خور و پری سے
دیوانہ کیا آپ نے جادو نظری سے
قطعہ 5
بسایا گھر بڑی محنت سے برباد وفا ہو کر
کوئی رہتا ہے دل میں شکر درد لا دوا ہو کر
قطعہ 6
سہرے کی ہر کلی ہے گلستاں لئے ہوئے
ہر گلستاں ہے کیف بہاراں لئے ہوئے
قطعہ 7
آئین رہ و رسم وفا لایا ہوں
آئینہ اخلاص نما لایا ہوں
قطعہ 8
سررشتہ تسلیم و رضا ہاتھ آیا
دامان طلب نے گل مقصد پایا
قطعہ
طبیعت مری کیوں نہ محظوظ ہو
کہ گھر میں وصی کے ولادت ہوئی
قطعہ 9
جفا سے ساز محبت کا تار ٹوٹ گیا
خزاں جو آئی طلسم بہار ٹوٹ گیا
قطعہ 10
اے خدا صاحب اوصاف دلارا کر دے
داد محفل میں ہے اس کا وسیلہ کر دے
قطعہ 11
احسان کیا مجھ پہ خدایا تو نے
رتبہ مرا د نیا میں بڑھایا تو نے
قطعہ 12
مبارک باد مرگِ کامرانی تم کو دیوانو
حیاتِ نو مبارک بنگلہ بھاشا کے نگہبانو
قطعہ 13
کرم تیرا کہ سودائی نہیں میں
اسیر زلف خودرائی نہیں میں
قطعہ 14
تلافیِ ستمِ روزگار کرتا ہوں
خزاں کے دور کو رشک بہار کرتاہوں