تضمين
علامه اقبال و اخترؔ
Akhtar Asifi Peshawari
آنسو کا ہر اک قطرہ بنتا ہے شراب آخر
اور دور میں آتا ہے جامِ مئے ناب آخر
کھل جاتی ہے محفل میں الفت کی کتاب آخر
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
معلوم تو ہو زاہد آخر تجھے غم کیا ہے
جز جذبہ محکومی تخیل صنم کیا ہے
میدانِ عمل میں آپابند حرم کیا ہے
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر
میگوں ہے اگر مینا گلرنگ پیالے ہیں
بدمست ہیں مطرب پر اپنے کو سنبھالے ہیں
جذبات ہر اک دل کے ساقی کے حوالے ہیں
میخانہ یورپ کے دستور نرالے ہیں
لاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر
ساقی نے جہاں بخشا جام مئے انگوری
ہوتا ہے وہیں ٹھنڈا جوش یم مغروری
کیا طنطنۂ کسریٰ کیا سطوت فغفوری
کیا دبدبہ نادر کیا شوکت تیموری
ہو جاتے ہیں سب دفتر غرق مئے ناب آخر
رکتا ہے کہیں دھارا بہتے ہوئے پانی کا
پلٹا ہے کسی نے رخ دریا کی روانی کا
طوفان تھا اک برپا اسرار نہانی کا
تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا
کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر