ڈھاکہ
Akhtar Asifi Peshawari
زبان دل بنے اور دل زبان ہو جائے
تو مجھ سے عظمت ڈھاکہ بیان ہو جائے
ترقیوں کا یہ عالم رہا جو ڈھاکہ میں
عجب نہیں یہ زمیں آسمان ہو جائے
ہر ایک جرعہ یہاں کا شباب آور ہے
یہاں کی پی لے تو بوڑھا جوان ہو جائے
اسی طرح کی زمیں کو بہشت کہتے ہیں
یقین کیوں نہ ہمارا گمان ہو جائے
تلاش رزق نہیں فکر ہے تو بس یہ ہے
کہ سر چھپانے کو کوئی مکان ہو جائے
نگاہ مہر سے لیں کام اہل شہر اگر
تو عضو عضو مہاجر کا جان ہو جائے
ہماری طرح کے جانباز اگر جمالیں قدم
بلند تا بہ ثریا نشان ہو جائے
گورنمنٹ اگر متفق رہے ہم کے سے
تو شہر بھر کی نئی آن بان ہو جائے
ابھی تو فتنہ ہے اس کمسنی پہ یہ اخترؔ
قیامت آئے جو رمنا جوان ہو جائے
Written in:ڈھاکہ