غزل 64
Akhtar Asifi Peshawari
سنیں ہم پر تَنِک ظرفی کا جو الزام دھرتے ہیں
یہ آہیں ہم نہیں کرتے دم اس کافر کا بھرتے ہیں
تفاوت دیکھئے ہم جان و دل سے جن پہ مرتے ہیں
دل و جاں سے وہ دم اغیار کی الفت کا بھرتے ہیں
کسی پر کیا گذرتی ہے یہ بات اُن کی بلا جانے
کھڑے ہیں آئینہ کے سامنے گیسو سنورتے ہیں
مجھے دِل کی خلش میں کچھ کم محسوس ہوتی ہے
مدد اے ناخن وحشت کہ مرے زخم بھرتے ہیں
وہ معلومات کی تنگی کی تہمت ہم پہ رکھتے ہیں
فلک کے جور کی جب ہم شکایت اُن سے کرتے ہیں
شب وعدہ یہاں تو دم رُکا ہے آ کے آنکھوں میں
پڑی ہے ان کو آرائش کی وہ اب تک سنورتے ہیں
Recited:مشاعرہ محفل سخن, زیر صدارت خاں بہادر رضا وحشت، بر مکان گیس اسٹریٹ مکہ