غزل 6
Akhtar Asifi Peshawari
شرح مختاری سرکار کروں یا نہ کروں
اپنی مجبوری کا اظہار کروں یا نہ کروں
ان سے میں پوچھتا ہوں مجھ سے محبت ہے تمہیں
سوچ میں وہ ہیں کہ انکار کروں یا نہ کروں
نگہہ ناز میں شوخی سی نظر آتی ہے
شوق کو خواب سے بیدارو کروں یا نہ کروں
طورِ موسیٰ کا فسانہ ہے بہت حوصلہ سوز
میں تیری خواہش دیدار کروں یا نہ کروں
ہوس اظہارِ تمنا کے لئے ہے بے تاب
سخت الجھن میں ہوں سرکار کروں یا نہ کروں
نور سے جلوہ رعنا کے ہیں آنکھیں روشن
دِل کو بھی مطلع الانوار کروں یا نہ کروں
خوبرویوں سے وفا کی نہیں اُمید اخترؔ
اس جفا کار سے میں پیار کروں یا نہ کروں