غزل 28
Akhtar Asifi Peshawari
مجھ کو غم سے رہا کرے کوئی
کاش میرا کہا کرے کوئی
مشق بیداد گر کوئی چاہے
ہم پہ ہی ابتدا کرے کوئی
وہ بتوں کی خدائی پر چپ ہے
کیا خدا سے گلہ کرے کوئی
ہوش کھو کر جو کچھ مزہ آئے
ہوش کی کیوں دوا کرے کوئی
وہ نہیں درد جو کہ مٹ جائے
سو مسیحا ہوا کرے کوئی
جب دعا کا اثر ہی اُلٹا ہو
کس طرح پھر دعا کرے کوئی
میں نے مانا کہ ٹھیک کہتے ہو
دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی
دمِ آخر ہے سانس اکھڑا ہے
اب تو آئے خدا کرے کوئی
شب کہاں پر تھے ہم بتا دیں گے
ہم سے تو سامنا کرے کوئی
دلِ مضطر کا بھی دعا گو ہوں
کیوں کسی کا برا کرے کوئی
جبکہ اخترؔ ہو غیر سے الفت
ہم سے کیوں کر وفا کرے کوئی
Notes:مصرعہ طرح: ابن مریم ہوا کرے کوئی