بیچارگی (ہندوستان)
Akhtar Asifi Peshawari
خموشی کا سماں ہے اور میں ہوں
دیار خفتگاں ہے اور میں ہوں
کبھی خود کو بھی انساں کاش سمجھے
یہ سعی رائیگاں ہے اور میں ہوں
شگوفے ہیں نہ گل،سنبل نہ ریحاں
یہ رنگ بوستان ہے اور میں ہوں
گیا وہ دور سر دلبراں کا
حدیث دیگراں ہے اور میں ہوں
کہوں کس سے کہ اس جمہوریت میں
ہجوم خسرواں ھے اور میں ہوں
حرم برگشتہ ہے اور دیربدظن
خود اپنا آستاں ہے اور میں ہوں
بجائے نغمہ ہائے اہل تمکین
خروشِ ناکساں ہے اور میں ہوں
بہ ایں ذوقِ وفا کوشی پہ ہم
وفا کا امتحاں ہے اور میں ہوں
پڑا ہوں اک طرف دھونی رمائے
عتاب رہرواں ہے اور میں ہوں
کہاں ہیں ہم زبان اللہ جانے
فقط میری زباں ہے اور میں ہوں
خموشی ہے زمین سے آسمان تک
کسی کی داستان ہے اور میں ہوں
بہ ایں گل پوشی و رنگیں نوائی
جفائے باغباں ہے اور میں ہوں
قیامت ہے خود اپنے آشیاں میں
تلاش آشیاں ہے اور میں ہوں
زمین و آسماں بے رنگ و ویراں
زمین و آسماں ہے اور میں ہوں
جہاں اک جرم ہے بادِ بہاراں
وہ لافانی خزاں ہے اور میں ہوں
چراغ کشتہ دور طرب کا
ہواؤں پر دھواں ہے اور میں ہوں
نگاہیں ڈھونڈتی ہیں مشتری کو
مری جنس گراں ہے اور میں ہوں
ترستی ہیں خریداروں کو آنکھیں
جواہر کی دکاں ہے اور میں ہوں
مرا ہندوستاں گم ہو چکا ہے
نیا ہندوستاں ہے اور میں ہوں
نہیں آتی اب آواز جرس بھی
غبار کارواں ہے اور میں ہوں
مآلِ بندگی اے جوش توبہ
خدائے مہرباں ہے اور میں ہوں