غزل 42
Akhtar Asifi Peshawari
ہنس ہنس کے وہ غیروں سے جو کرتے ہیں اشارے
پہلو میں مرا جاتا ہے دل رشک کے مارے
آنے کا نہیں مجھ کو یقیں موسم گل کا
جب تک نہ جنوں مجھ کو بیاباں سے پکارے
میں اذن درازی کا نہ دوں دست ہوس کو
ہاں اُس کی حیا شوق اگر دل کا ابھارے
دن یہ بھی ہیں کٹتے ہیں ترے ہجر میں بے کیف
اور وہ بھی تھے دن ہی جو ترے ساتھ گزارے
بھولوں انہیں کس طرح بھلایا نہیں جاتا
وہ دل جمے بیٹھے ہیں یادوں کے سہارے
ان نرگسی آنکھوں سے ٹپکتے ہیں یہ آنسو
یا ٹوٹتے ہیں برج گہر بار سے تارے
ایسی کوئی ترکیب سمجھا دے مجھے یارب
جو بوجھ گناہوں کا مرے سر سے اُتارے
رس گھولتا ہے کانوں میں ارشاد لبوں کا
فردوش نظر ہیں تری آنکھوں کے اشارے
رکھتے تو ہو تم راہِ وفا میں قدم اخترؔ
ایسا نہ ہو دن کو نظر آنے لگیں تارے