غزل 44
Akhtar Asifi Peshawari
جگر میں سینے میں دل میں تجھے آباد کرتے ہیں
تو رنج ہم تری اے نازک جلاد کرتے ہیں
وہ کشتہ ہوں کہ مجنوں ہے مجاور میری تربت کا
طوافِ قبر میرا حضرتِ فرہاد کرتے ہیں
وہ دل جو مسخر نہ ہوا حورو پری سے
دیوانہ کیا آپ نے جادو نظری سے
جس دل پہ فسوں چل نہ سکا حسن پری کا
دیوانہ ہے وہ آپ کی جادو نظری کا
منتِ کشِ درماں نہیں ازارِ محبت
ہے فکر احیا کو عبث چارہ گری کا
Notes:مصرعہ طرح: جفاؤں پر جفا بیداد پر بیداد کرتے ہیں