قصیده مولودِ کعبہ
Akhtar Asifi Peshawari
زمیں سے مل رہی ہیں سرحدیں کیوں چرخِ اخضر کی
یہ کیا کہتی ہیں پیہم جنبشیں جبریل کے پر کی
یہ کیسی انجمن آرائی ہے بزم کواکب میں
یہ کیوں محفل سجائی جارہی ہے ماہ اخترؔ کی
جمی ہیں محفلیں عیش و طرب کی سارے عالم میں
صدائیں گونجتی ہیں نغمہ ہائے روح پرور کی
در میخانہ وحدت کے پٹ جبریل نے کھولے
جدھر دیکھو ادھر کثرت سی ہے مینا و ساغر کی
تصدق میکدے پر آج عالم باغ رضواں کا
نظر آتی ہے ہر گوشے میں رونق کوئے دلبر کی
ہیں مسلسل دور ہے ایسا کہ پو بارے رندوں کے
شراب ناب ہے ایسی کہ بن آئی ساغر کی
یہ کس کے نور نے روشن کیا ہے بزم امکاں کو
تجلی رونق محفل ہے کس کے روئے انور کی
مبارکباد کا ہے شور برپا کس کی آمد پر
قدم سے کس کے رونق بڑھ گئی اللہ کے گھر کی
عزیز رحمة اللعالمیں تشریف لائے ہیں
ولادت خانہ کعبہ میں ہے ساقی کوثر کی
وہ جس نے کر دیا زیر و زبر کفار کا لشکر
وہ جس کے ولولے میں تھی تڑپ گو یا سمندر کی
وہ جس نے مہر کو مغرب سے مشرق کی طرف پھیرا
وہ جس نے چال اشارے سے بدل دی شاہ خاور کی
وہ جس نے لات و عُزّیٰ کی خُدائی ختم کر ڈالی
وہ جس نے دی صدا بتخانے میں اللہ اکبر کی
وہ جس سے قصر استبداد میں ہے زلزلہ برپا
عدم میں روح لرزاں جس سے ہے کسری و قیصر کی
وہ جس سے تہلکہ سا پڑ گیا دنیائے ظلمت میں
وہ جس سے عقل گم بانیان فتنہ و شر کی
غریبوں کا سہارا بے کسوں کا دستگیر آیا
مدد دیگا وہ اک اک کو خبر رکھیگا گھر گھر کی
قسم ہے حیدر خیبر شکن کے زور بازو کی
خدائی چل نہیں سکتی ہے اب سرمایہ و زر کی
حکومت اہل سرمایہ کریں اب غیر ممکن ہے
ہے قوت بیکسوں کی پشت پر بازوئے حیدر کی
جدھر دیکھو ادھر امن و سکوں کا دور دورہ ہے
جہاں جاؤ تباہی رونما ہے فتنہ و شر کی
بڑی مشکل میں ہے مشکل کشا مشکل کو حل کر دو
بدل دو واسطہ حسنین کا حالت کو اخترؔ کی