وطن اپنا
Akhtar Asifi Peshawari
گلستانِ ارم سے تھا کبھی بڑھ کر وطن اپنا
مگر اب ہوگیا ہے سربسر گُلخن چمن اپنا
بہارِ فکر کی تاثیر نظارے کے قابل ہے
کہ توصیف وطن میں گل بدامن ہے وطن اپنا
وطن کا درد ہے اک مشترک سرمایہ قومی
بجا ہے گر اسے کہتے ہیں شیخ و برہمن اپنا
حقیقت دوستی ہے جزوِ اعظم میری فطرتکی
دل منصور ہے وارفتۂ دار و رسن اپنا
جہاں کا ذرہ ذرہ سبز بیگانہ ہے اخترؔ
سنائے کوئی کس کو قِصہ رنج و محن اپنا