مہاجر کی شہادت
Akhtar Asifi Peshawari
وہ مرد مجاہد لیاقت علی خاں
بہ مذہب مسلمان بہ مسلک مسلمان
صداقت کا پتلا محبت کا بندہ
عزیز عزیزان غلام غلاماں
وہ کرنال سے کر کے آیا تھا ہجرت
کہ ہجرت پر آمادہ تھا ہر مسلمان
تھے معلوم ہجرت کے انکو فوائد
تھا اک فائدہ خدمت اہل ایمان
ہوئے مہرباں قائداعظم اسی پر
وزارت کا سونپا اسی کو قلمداں
رہا اپنے عہدے پر فائز وہ ایسے
رہے جیسے بوبکر و فاروق و عثماں
دلاور تھا حضرت علی کی طرح وہ
وہ شیر خدا تھے یہ شیر نیستاں
بپھرتا تھا جب وہ لرزتے تھے دشمن
رہے گونج سے اس کی دشمن ہراساں
نہ تھا زر پرستی سے اس کو تعلق
نہ تھی کچھ اسے فکر تعمیر وابواں
بھروسہ تھا کلیتا اس کو حق پر
وہی بیوی بچوں کا ہو گا نگہباں
بدل سی گئی اندنوں ہے یہ دنیا
نہ کیوں گزرے ہر اہل دل دامن افشاں
چلو راستی پر تو مخلوق دشمن
ہو گمراہ تو پیش خالق پشیماں
شہادت کو ترجیح کیوں دے نہ مومن
یہ ہے پیروی امام شہیداں
یہ نایاب موقع یہ کم یاب دولت
مبارک ہو تجھ کو لیاقت علیخاں
شہادت ہے اک تحفہ پاک نادر
جو پایا ہے تو نے صلے میں مہاجر