غزل 1
Akhtar Asifi Peshawari
تر لبِ تشنہ کو کرنا چاہیے
ساقیا رندوں کو صہبا چاہیے
زخمِ دِل کا کچھ مداوا چاہیے
زیر لب خنده تمہارا چاہیے
طور ہے ہر کوہ جلوے سے مگر
دیکھنے کو چشم موسیٰ چاہیے
اس کا ہر انداز ہے قاتل میرا
خون کا اب کس پہ دعویٰ چاہیے
حشر میں قاتل حوالے ہو مرے
خون بہا میں اور پھر کیا چاہیے
دیر سے مطلب نہ کعبے سے غرض
ہم کو اس کا ایک جلوا چاہیے