احبابِ پشاور کے نام
Akhtar Asifi Peshawari
جا کے دیکھ اے قاصدِ طرار میرے شہر میں
کیسے ہیں احرار و اور ابرار میرے شہر میں
کچھ فضیلت کا نشاں بدلا ہے یا اب بھی وہی
ہے رواجِ جبہ و دستار میرے شہر میں
آج نظارے کا دروازہ ہے کیا سب پر کُھلا
حسن رہتا تھا پسِ دیوار میرے شہر میں
نرگس بیمار اہل حسن ہے خوابیدہ بیا
فتنے کرتی رہتی ہے بیدار میرے شہر میں
اب بھی ہے پرواز شہبازِ صحافت کی بلند
اب بھی کیا چھپتا ہے یہ اخبار میرے شہر میں
اب بھی فردوسِ نظر ہے قصہ خانی کی بہار
دِل کشا ہے اب بھی یہ بازار میرے شہر میں
ہے اسی صورت پہ قائم اب بھی چوک یادگار
اس کے کچھ بدلے ہیں یا آثار میرے شہر میں
اب بھی کیا فارغ بخاری دیتے ہیں درسِ ادب
جمتی ہے کیا محفلِ افکار میرے شہر میں
آج کل ہیں کون سے عالم میں ہمدانی رضا
تھا بہت مشہور یہ نثار میرے شہر میں
فخر سرحد مرزا محمود کا کیا حال ہے
خوش تو ہے یہ مردِ خوش گفتار میرے شہر میں
کوکب شبِ تاب سرحد اور جناب کاظمی
ایک سے بڑھ کر اک فنکار میرے شہر میں
سالکِ راهِ طریقت حضرتِ قبلہ ضیاء
آج بھی ہیں مطلع الانوار میرے شہر میں
کیا جانیں میخانہ وحدت نوائے بے نوا
کیا ہے یہ شاعرِ شنوار میرے شہر میں
پوچھتا ہوں اب میں اخترؔ اپنے اہل شہر سے
ہے میرا بھی کوئی ذکر اذکار میرے شہر میں