غزل 51
Akhtar Asifi Peshawari
بھری محفل میں زارِ عشق کا اظہار ہو جانا
وہ اس کافر کا میری شکل سے بیزار ہو جانا
مبارک ہو مجھے اس کے گلے کا ہار ہو جانا
عدو کی بھینگی آنکھوں میں کھٹکتا خار ہو جانا
نہ آنا بندر بھبکی میں تم ہرگز اُس کے درباں کی
اُٹھائے وہ تمہیں در سے تو تم دیوار ہو جانا
پہنچنا رات میرا چپکے چپکے ان کے بستر پر
رگڑ لگتے ہی اُن کا خواب سے بیدار ہو جانا
نشے میں اُن کا آ جانا بہک کر مرے پہلو میں
مرے بوسوں کی ترشی چکھتے ہی ہوشیار ہو جانا
محبت کا مجھے آزار ہے چارہ گرو دیکھو
خدارا تم نہ مرے در پے آزار ہو جانا
وہ میرا ناز برداری سے ان کی خو بدل دینا
وہ ان کا رفتہ رفتہ بے سبب آزار ہو جانا
متاع دل کو اک بوسے کی خاطر ہم نہ بیچیں گے
نظر آتا نہیں ہے آپ سے بیوپار ہو جانا
یہ صورت ہے حسینوں کی نگاہوں میں سمانے کی
خود آرا ہوں جو وہ تم آئینہ بردار ہو جانا
وہ ان کی خوش خرامی اور وہ استقبال فتوں کا
وہ میرا حشر میں وارفتہ رفتار ہو جانا
نگاہیں طوف میں ہیں دل ہے لیکن بیچ میں قائم
پڑا اُس شوخ کے آگے مجھے پرکار ہو جانا
کشاکش میں وہ کھچ کر ٹوٹنا بند قبا ان کا
وہ میری خوش نصیبی سے کشود کار ہو جانا
من ان کا بڑھتے ہی گھٹنا وہ مرے دل کی رغبت کا
وہ آخر کار ان کا مرے سر پر بار ہو جانا
بٹھا لینا بہر حال ان کو اپنی گود میں اخترؔ
جو آئیں کوہ وہ بن کر تو تم کوہسار ہو جانا