غزل 27
Akhtar Asifi Peshawari
دلِ بے نیاز فکرِ ثواب و عذاب ہے
ساقی پلا شراب کہ عہد شباب ہے
ہاں لطف کر کے محشر صد اضطراب ہے
جانداده وفا دل خانہ خراب ہے
سینے پہ کچھ اُٹھا بہ شکل حباب ہے
بچپن ابھی گیا ہے نمودِ شباب ہے
ہوں مستِ شوق دور میں جام شراب ہے
ساقی ہے، فصل گل ہے شبِ مہتاب ہے
ہر گلستاں ہے مدرستہ شوق دید حسن
ہر پھول رنگ و بُو کی نرالی کتاب ہے
رنج رقیب کاہش ہجراں جفائے دوست
اک جانِ ناتواں کو غم بے حساب ہے
بے خود ہوں دیکھ کر میں تری مستی ادا
ساقی ترا شباب ہی جامِ شراب ہے
بے کیف زندگی سے ہو کیا کوئی لطف کوش
پیمانہ حیات میں جھوٹی شراب ہے
کیا پوچھنا ہے اس کے کمالِ وقار کا
جو عاشقِ جنابِ رسالت مآب ہے
کیا غم ہو ہم کو حدتِ خورشید حشر کا
سر پر ہمارے سایہ رحمت مآب ہے
اندر سے فیض ساقی میخانہ ازل
گردش میں ہر گھڑی قدح آفتاب ہے
یکتائی جمال پہ نازاں ہو تم مگر
تیغ کشیده مصرعہ قد کا جواب ہے
یہ مے نہیں ہے محبت ہے گمان دیکھ
شیشے میں بند خونِ تقدیر مآب ہے
يارب خطائے اخترؔ عاصی معاف کر
شرم گناه سے عبد ترا آب آب ہے