بہار عيد
Akhtar Asifi Peshawari
فضا ہے جلوه در آغوش جلوه گل بکنار
یہ کس کے وصل کی پیغام بر بنی ہے بہار
نسیم توڑ رہی ہے سبوئے غنچہ کی مہر
برنگ بادہ ہے توبہ شکن گلوں کا نکھار
بہار پہنچی ہے اس نقطہ پر جہاں جاکر
شراب پینے سے زاہد کو بھی نہ ہو انکار
حیا حریم تمنا میں جلوہ آرا ہے
جبین شوق پہ ظاہر ہیں سجدہ کے آثار
حریم ناز میں ہے حسن محو آرایش
ہے گرم عشق کی محفل میں دید کا بازار
کہاں ہے ساقی رعنا لندھائے خم کے خم
کہ اک مہینے کا کرنا ہے دور ہم کو خمار
ترے نثار مغنی ذرا رباب اٹھا
کہ دلکشا ہے بہار پیالہ روے نگار
ہلال عید نے مژدہ دیا ہے عشرت کا
جلو میں ہے سحر عید کے دلوں کا قرار
وہ قافلہ تو روانہ ہوا میام کے ساتھ
فضائے دل میں نہیں فکر عاقبت کا غبار
جو دل ہے زندہ تو دے داد خوشدلی اخترؔ
کہ جلوہ پاش بصد ناز ہے عروس بہار
لحاظ شوق در ایں دور خوشگوار خوش است
بنوش باده عشرت کہ روزگار خوش است