غزل 20
Akhtar Asifi Peshawari
نالے ہیں بے خروش دعا میں اثر نہیں
آئے کہاں سے روز گرہ میں جو زر نہیں
سر سر نہیں ہے سر میں جو سودا نہ ہو کوئی
دل دل نہیں ہے دل میں تمنا اگر نہیں
ہم محفل طرب میں یہی دیکھتے رہے
اس کی نگاہِ ناز کدھر ہے کدھر نہیں
بے روپ سے یہ رہتے ہیں جب تک وہ آ نہ جائیں
دیوار و در مرے مرے دیوار و در نہیں
گو ایک ایک کو ہے خبر ایک ایک کی
اُس بزم میں کسی کو کسی کی خبر نہیں
شغلِ شبِ فراق ہے یہ بدگماں نہ ہو
واللہ ترے نالوں میں بلکل اثر نہیں
اخترؔ بجھا ہوا ہے ترا دل بھی یہ نہ کہہ
وه دل فروزِ شام وہ رنگیں سحر نہیں