نوحه وطن
Akhtar Asifi Peshawari
نظر آتا ہے کچھ بدلا ہوا رنگ چمن ساقی
یہ کیوں بیگانہ بیگانہ ہیں یاران وطن ساقی
خزاں کا خوف کیا ارباب گلشن کیلئے کم تھا
کہ یوں برق فنا کی زد میں ہیں گل پیرہن ساقی
برائے نام باقی رہ گیا نام یزداں کا
خود ہی کے زعم میں ہر اک بنا ہے ابرمن ساقی
نوائے بلبل شیریں نوا سنتا نہیں کوئی
پسند عام ہے آوازہ زاغ و زغن ساقی
شفق گلرنگ ہے پھر سرخی خون شہیداں سے
سرسر خون میں ڈوبی ہے سورج کی کرن ساقی
خود اپنے قافلے کو لوٹتے ہیں قافلے والے
جنہیں رہبر سمجھتے تھے وہ نکلے راہزن ساقی
بہائیں خون کی وہ ندیاں چاروں طرف ہم نے
کہ جن کو دیکھ کر روتا ہے اب چرخ کہن ساقی
اس آزادی سے اچھی تھی کہیں لعنت غلامی کی
تھا کب یوں خون سے آلودہ دامان وطن ساقی
مزن کے فلسفہ کا آج کل قائل نہیں کوئی
بزن پر ہے مدارِ گرمی بزم سخن ساقی
ترے ہوتے یہ کیسی پھوٹ ہے رندان محفل میں
ترا منہ تک رہی ہے انجمن کی انجمن ساقی
ترے صدقے چلے پھر دور صہبائے اخوت کا
دنوں کو پھر کرے یک دل محبت کا چلن ساقی
بڑا فن ہے دلوں کو آشنا کرنا محبت سے
مگر تیرے سوا کوئی نہیں اُستادِ فن ساقی
پھر امن اور آشتی کی چاندنی پھیلے زمانے میں
مروت اور سمجھ کے چاند کا چھوٹے گہن ساقی
نئی محفل میں اخترؔ چاہتا ہے اگلی سی رونق
پلا ہر اک جامِ نو میں آج صہبائے کہن ساقی