غزل 61
Akhtar Asifi Peshawari
جس نے دیکھا اس طرف بسمل بنا
وہ حسیں نا خواستہ قاتل بنا
حزن اس کا باعث حیرت نہیں
دو جہاں کے غم سمٹ کر دِل بنا
کشتی دِل کو سہارا مل گیا
اور خود ہی طوفان رہبرِ ساحل بنا
تیغ چشم نازِ قاتل کے نثار
خوبی قسمت سے میں بسمل بنا
پھر سمائی دشت گردی کی ہوا
پھر جنوں زا جلوه منزل بنا
بن گئی اہلِ نظر کی جان پر
دِل مرا جب سے ترا محمل بنا
بن گیا ہر داغ اشکِ شمع طور
دِل مرا جب سے ترا محمل بنا
رشک اس کی موت پر کیوں کر نہ ہو
غیر کا غم تیرا داغِ دِل بنا
اخترؔ اس کی چشم کی تاثیر سے
دِل ہمارا عشق کے قابل بنا