کلثوم کی رخصتی
Akhtar Asifi Peshawari
عروس زندگی گھونگھٹ نکالے کیا ادھر آئی
طرب خانے میں جیتی جاگتی رونق نظر آئی
ستارے دیکھ کر یہ ہو گئے مجبور رکنے پر
سما سے تا سمک ہر شے جھکی فطرت کے جھکنے پر
نسیم صبح اٹھلاتی ہوئی آئی گلستاں میں
نظارے نے بلا کی کیفیت بھر دی بہاراں میں
روش اندر روش محو خرام اک شوخ رعنا ہے
چمن اندر چمن ہر شاخ سرسبز تمنا ہے
و فور بیخودی میں جھومتے ہیں لالہ و نسریں
زمین کو جھانکتے ہیں آسماں پر سے مہہ و پرویں
ہر اک شے پر جوانی ہے بہار زندگانی ہے
گل و بلبل کی آنکھوں میں سرور نوجوانی ہے
اسی دور طرب میں رخصت کلثوم ہوتی ہے
روانہ ہوئے مرکز ہستی، معصوم ہوتی ہے
یہ وہ مرکز ہے جس مرکز کو سب سسرال کہتے ہیں
یہ وہ مرکز ہے دو دل جس جگہ مل جل کے رہتے ہیں
وہیں کلثوم بھی جاتی ہے آج اسکو خدا ر کھے
اور اس کے باوفا شوہر کو پابند وفا رکھے
وہاں جا کرا سے ہر چیز کو اپنا سمجھنا ہے
یہاں دیکھا ہے جو ابتک اسے سپنا سمجھنا ہے
میں غائب کہہ رہی تھی مرے اللہ تو تو حاضر ہے
اگر چہ میرے گھر میں دو گھڑی کی تو مسافر ہے
بنانا ہے تجھے اب میاں جبار کے دل میں
بسر کرتی ہے ساری زندگی اس ایک منزل میں
خدائے دو جہاں جب تک زمین و آسماں رکھے
تجھے آباد رکھے شاد رکھے کامراں رکھے