حاصل جوانی
Akhtar Asifi Peshawari
مرے دل پر ثبت کرتا ہے نقوش غیر فانی
یہ طریقہ نوازش ادائے مہر بانی
دل زار ختم کر اب شب ہجر کی کہانی
کہ نسیم صبح لائی ہے پیام کامرانی
مرا شوق آزماتی ہے حیا نظر جھکا کر
بڑا مرا حوصلہ بڑھاتی ہے عروسی کامرانی
ترا ولولہ سنائے تجھے خوشدلی کا مژده
تری خوشدلی دکھائے تجھے عیش جاودانی
کیا حسن نے پذیرا ترا تحفہ محبت
نگہ قبول نے دی تجھے دادِ زندگانی
یہ ہے کس کی آمد آمد کہ پلا رہا ہے ساقی
بہ کمال مہربانی مئے ناب ارغوانی
ہو جمیل کی ولادت تجھے اے وصی مبارک
کرے نو بہار تازہ ترے گھر کی باغبانی
کھلا مرے دل کا غنچہ کہ حیا تھی شوق پرور
یہ ہے صبح کا ترانہ وہ تھی رات کی کہانی
مرے دل کو کیوں نہ اخترؔ ہو نشاط جاودانہ
مرے دوست کو خدا نے دیا حاصل جوانی
Written:چاٹگام•April 15, 1952