غزل 14
Akhtar Asifi Peshawari
کیا فسوں نگاہ جانانہ ہو گئی ہے
مخلوق جیسے ساری دیوانہ ہو گئی ہے
کرتا تو ہوں گدائی میں کوچہ صنم کی
لیکن طبیعت اپنی شاہانہ ہو گئی ہے
اس کے کرم کے اب بھی اُمیدوار ہیں ہم
حالانکہ وہ حقیقت افسانہ ہو گئی ہے
دانستہ کب ہوتی ہے سرزد خطائے الفت
شامِ فراق جس کی جرمانہ ہو گئی ہے
دورِ بہار آیا بستی ہمارے دِل کی
عشق اور آرزو کا کاشانہ ہو گئی ہے
زاہد سے کیوں دبے وہ کیوں محتسب سے بھاگے
اب دخت زر کی ہمت مردانہ ہو گئی ہے
تھا شمع انجمن کو اپنے پہ ناز کیا کیا
جب وہ پہنچ گئے ہیں پروانہ ہو گئی ہے
وہ جلوہ گر ہوئے ہیں سر جھک گیا ہمارا
گویا ادا نمازِ شکرانہ ہو گئی ہے
اخترؔ ہمارے حق میں آلِ نبی کی الفت
جنت میں داخلہ کا پروانہ ہو گئی ہے