پروانوں کی بات
Akhtar Asifi Peshawari
اس قدر الفت کے الفت کے دیوانونکی بات
شمع نے محفل میں پھر چھیڑی ہے پروانوں کی بات
برسبیل تذکرہ اس گل کابھی نام آگیا
کر رہا تھا میں چمن کے چاک دامانوں کی بات
عشق کو آباد ہونے آج تک دیکھا نہیں
تم کہو تو میں سناؤں دل کی ویرانوں کی بات
جنت ارضی کو دوزخ کا نمونہ کر دیا
یوں ملائک کرتے ہیں آپس میں انسانوںکی بات
گوش بر آواز ہیں میکش برنگ جام مل
قلقل مینا بھی ہے گویا کہ میخانوں کی بات
کعبہ والے ہوتے جاتے ہیں بتونکے مدح خوان
اے برہمن چھوڑ اب للله بتخانوں کی بات
بت پرستوں سے عبث امید پاس حق نہ رکھ
ہندوؤں میں آ نہیں سکتی مسلمانونکی بات
کس کا پیمانہ بھرا تھا کس کا پیمانہ نہی
ہر گھڑی رندونمیں رہتی ہے پیمانونکی بات
شمع بھی بیگانہ ہے پروانہ بھی ناآشنا
آپ نے کس سے سنی میرے سیہ خانونکی بات
اشک خونیں کیوں نہ چھلکیں آبلے کی آنکھ سے
ہے زباں پر خار کی بچھڑے گلستانونکی بات
ہے زبان زد آج ذکر اخترؔ و فریاد و قیس
اہل دانش کی زباں پر بھی ہے نادانونکی بات