وداع و وصل
Akhtar Asifi Peshawari
سمجھنے کیوں لگا اس شب کو میں شب یلدا
ہو جس کے پردے میں صبح مراد جلوہ نما
امید مہر نے رکھا ہے دل کو محو نشاط
اگر چہ تیرگی شب نہیں سرور افزا
شراب خانہ ہے مرے تصورات کی بزم
سبوئے دل میں بھری ہے امید کی صہبا
ادائے خاص سے ساغر کش تخیل ہوں
کہ جادہ منزل امکاں کا وقف عام ہوا
چھڑا کے ہاتھ سے دامن جھٹک رہا ہے کوئی
تعلقات کا رشتہ مگر نہ ٹوٹ سکا
بلائیں لیجئے اے دست آرزو تیری
کہ اس طرح سے بھی بھاری رہا ترا پلہ
چلے ہیں آج جو وہ کل ضرور آئیں گے
سہا نہ جائے گا ان سے فراق کا صدمہ
کشش محبت صادق کا ان کو کھینچیں گی
سپرد شوق کرے گا انھیں خلوص ان کا
وہ جائیں شوق سے اک بار آئیں گے سو بار
کہ بیٹھنے انھیں دیگا نہ ان کا دل نچلا
خطا معاف مخاطب نہ کر لوں کیوں تجھ کو
تھا پردے پردے میں اظہر یہ ذکر خیر ترا
بھلا سکوں گا نہ دل سے یہ محبت رنگین
اگر چہ ہو گا تری یاد میں بھی ایک مزا
وہ تیرے طرز تغافل میں التفات کا رنگ
وہ التفات میں تیرے تموج دریا
یہ تیرا جانا ہے تمہید تیرے آنے کی
کشاں کشاں تجھے تیرا خلوص لائیگا
ہوا کروں گا تیرے وصل سے بھی میں خوشکام
زبان حال سے کہتا ہے رخ جدائی کا
وداع و وصل جداگانه لذتے دارد
ہزار بار برو صد ہزار بار بیا