غزل 36
Akhtar Asifi Peshawari
ترا بے پردہ ہو کر یک بیک روپوش ہو جانا
مرے جذبات کا ہنگامہ در آغوش ہو جانا
جہاں کا ذرہ ذرہ ہے ترے انوار کا مظہر
عبث ہے میری نظروں سے ترا روپوش ہو جانا
کہاں وہ ادعائے پارسائی حضرتِ واعظ
کہاں پیر مغاں کی بزم میں مے نوش ہو جانا
یہی ہے جذب الفت عشقِ کامل اس کو کہتے ہیں
دفورِ بے خودی سے اس کا ہم آغوش ہو جانا
کمال كيف نظارہ یہی ہے میکدے والو
کسی کی مست آنکھیں دیکھ کر مدہوش ہو جانا
یہی ہے ابتداء ہنگامہ حسن و محبت کی
تیرا خاموش ہو جانا میرا خاموش ہو جانا
مبارک اے جنون عشق صحرائے محبت میں
میرا وارفتگی میں قیس کے ہمدوش ہو جانا
کسی کے پاؤں پر پیہم سجودِ شوق کر ڈالے
مرے کام آگیا اخترؔ میرا بے ہوش ہو جانا