غزل 73
Akhtar Asifi Peshawari
کرنیں کچھ آفتاب کی لائے اڑا کے ساتھ
ذرے جو اڑتے پھرتے ہیں موج ہوا کے ساتھ
دوں قافلے کا ساتھ یہ طاقت نہیں تو کیا
پہلو میں دل اچھلتا ہے بانگِ درا کے ساتھ
پانے کا حوصلہ ہے تو جو مانگ دل سے مانگ
تاثیر چاہتی ہے اجابت دعا کے ساتھ
بیمار کی امید کا قصہ کیا تمام
مایوسیوں نے زہر ملا کر دوا کے ساتھ
بے فائدہ نہیں ہے بلاؤں کا بھی نزول
ہر بندہ جوڑ لیتا ہے رشتہ خدا کے ساتھ
کرتا نہیں جگر بھی تعاون شب فراق
سازش میں ہے شریک دل مبتلا کے ساتھ
کچھ عقل کی چلی نہ تو کام آئی احتیاط
اس کی نگاہ لے گئی دل کو لگا کے ساتھ
آسان کسی طرح سے ہو مشکل فراق کی
ہو گی مری قضا بھی تو ان کی ادا کے ساتھ
آئی بہار بن گئی تو بہ کی جان پر
اخترؔ بدلتی ہے مری نیت فضا کے ساتھ
Written:چاٹگام•November 10, 1951