غزل 57
Akhtar Asifi Peshawari
نازنینوں کی اگر دِل میں نہ الفت ہوتی
اِس قدر زار نہ اخترؔ تری حالت ہوتی
تجھ میں رم کرنے کی اے بت جو نہ عادت ہوتی
ترے وحشی کو حسینوں سے نہ وحشت ہوتی
اثر افگن جو نہ ہوتا مری قسمت کا قصور
اس کو اغیار سے ہرگز نہ محبت ہوتی
طلب عیش کا سودا جو نہ ہوتا سر میں
شام غم مرے لئے صبح مسرت ہوتی
جذبہ حسن پرستی تری عظمت کی قسم
تو نہ ہوتا تو نہ دنیا کی یہ زینت ہوتی
تم نہ آئے سر بالیں دم آخر ورنہ
تلخی مرگ میں شکر کی حلاوت ہوتی
پردے پردے میں کئے ہیں وہ ستم ظالم نے
آفت آ جاتی جو دِل میں نہ محبت ہوتی
بے وفائی سبھی معشوق کیا کرتے ہیں
تم اگر مجھ سے وفا کرتے تو جدت ہوتی
ہوتی جاتی ہے میری حسرت ایذا پامال
مجھ پہ تم رحم نہ کرتے تو عنایت ہوتی
کیوں کر مقبول تیرا حسن طبیعت ہوتا
کیوں نہ ہر بزم میں اخترؔ تیری شہرت ہوتی
Recited:مشاعرہ محفل سخن نمبر ا قیصر اسٹریٹ کلکتہ زیر صدارت خان بهادر رضا علی وحشت مدظله (November 24, 1934)
Notes:مصرعہ طرح: آپ آتے جو کسی دن تو عنایت ہوتی