غزل 53
Akhtar Asifi Peshawari
دِل محفل عشرت میں بھی مسرور نہیں ہے
پہلو میں جو وہ ساقئی مخمور نہیں ہے
اس کا وہ نشہ ہے کہ اُترتا نہیں سر سے
صہبائی محبت مئے انگور نہیں ہے
ناکامئی الفت کا اثر مجھ پہ ہو کیونکر
میں دور ہوں اُس سے وہ مگر دُور نہیں ہے
میخانه دل باده الفت سے ہو لبریز
ساقی کی عنایت سے یہ کچھ دور نہیں ہے
کیا خونِ تمنا کا کروں حشر میں دعویٰ
توہین مجھے آپ کی منظور نہیں ہے
جلوہ ترا ہر شے میں نظر آتا ہے مجھ کو
وہ کون سا ذرہ ہے جو اک طور نہیں ہے
ہے وصل کی خواہش په عبث حیلہ بہانہ
کیوں صاف نہ کہہ دوں ہمیں منظور نہیں ہے
اک آه تو کھینچ اے دِل ناداں سرِ محفل
نزدیک وہ آ جائیں تو کچھ دور نہیں ہے
Recited:مشاعرہ امیر سخن مٹیا برج کلکتہ (December 4, 1932)
Notes:مصرعہ طرح ایسے بھی ابھی زخم ہے ناسور نہیں ہے