غزل 41
Akhtar Asifi Peshawari
محو گلگشت جو وہ سرو خراماں ہوتا
اس کے سایہ کے عوض ساتھ گلستاں ہوتا
بسکہ ہوتی ہے مسلمان میں تسلیم کی خو
لطف آتا جو وہ کافر بھی مسلماں ہوتا
جس کی آئی وہ گیا جور کا کیا دخل اس میں
کیا پڑی تھی اسے کیوں مفت پشیماں ہوتا
یہ سب اسباب ہیں تسکین جنوں کی خاطر
ورنہ دامن نظر آتے نہ گریباں ہوتا
ملتفت ہی نہ ہوا بزم میں وہ مری طرف
دل کا جو حال ہے آنکھوں سے نمایاں ہوتا
حسبِ امید ہے مرے گھر جو وہ آتا اخترؔ
اِک چراغ اور تشکر کا فروزاں ہوتا