غزل 32
Akhtar Asifi Peshawari
تپ فرقت سے ہم یوں رہ گئے ہیں ناتواں ہو کر
کہ اب تو آہ بھی منہ سے نکلتی ہے دھواں ہو کر
تمنائیں چلی آتی ہیں اس میں مہمان ہو کر
نئی یہ مول لی ہے دل نے آفت میزباں ہو کر
ادھر بھی اک نظر ہو جائے تیر ناز صدقے
نہ مارو شیخ غفلت سے مجھے ابرو کماں ہو کر
اُڑائی خاک آ کر ٹھوکروں سے مری تربت کی
ہوا ہر بار میں منت کشِ بادِ رواں ہو کر
کسی سے سن لیا ہے دختِ زر کے حسن کا قصہ
چلے ہیں شیخ جی میخانہ کو پیر مغاں ہو کر
لڑکپن ہے اور اس پہ چلبلا پن اس قیامت کا
نہ جانے کیا قیامت ڈھائے گا وہ بت جواں ہو کر
لگا ہے تاک میں گرگِ اجل انساں نہ بھول اتنا
خودی کی تو عبث لیتا ہے مشت استخواں ہو کر
کہاں سکندر و دارا کہاں اخترؔ وہ جامِ جم
رہے ہے صاحب طیل خوشاں بھی بے نشاں ہو کر