غزل 45
Akhtar Asifi Peshawari
سب ہیں کوشش میں نہ ہو جائیں کشش بیگانہ ہم
کعبہ ہم آتشکدہ ہم دیر ہم مے خانہ ہم
یوں نظر پھیری کہ جیسے ہوں وفا بیگانہ ہم
آشنا دشمن سمجھتے تھے تجھے ایسا نہ ہم
بتکدہ چھوڑا تو اس کا غم نہ کر اے برہمن
کعبے سے بھی واسطہ رکھتے ہیں آزادانہ ہم
ڈالتا زاہد اگر بنیاد تعمیر خلوص
پیش کر دیتے اک اک خشت خم میخانہ ہم
اس کی لو تیرے رخ روشن سے ہٹتی ہی نہیں
شمع محفل کو سمجھتے ہیں ترا پروانہ ہم
اے دل صد چاک اس حسن تصور کے نثار
گیسوئے مشکیں میں اس کے کر رہے ہیں شانہ ہم
اس طرف ہو جائے شائد پھر نگاہِ التفات
ہاتھ سے رکھے نہیں خالی شده پیمانہ ہم
اک قصیدہ لکھ کے لایا ہوں در و دیوار کا
کاش وہ کہہ دیں کہ دیکھیں گے ترا کاشانہ ہم
فیض سے پاتے ہیں اب تک اپنے کو بیگانہ ہم
اے حرم والوں کریں آباد پھر بتخانہ ہم