آسودگی (پاکستان)
Akhtar Asifi Peshawari
وطن کا بوستان ہے اور میں ہوں
دیار گل رخاں ہے اور میں ہوں
کیا کرتا ہوں انسانوں کو بیدار
دراے کارواں ہے اور میں ہوں
نگاہ مہر ساقی کے تصدق
سرور جاوداں ہے اور میں ہوں
مجھے کیا کام سر دیگراں سے
حدیث دلبراں ہے اور میں ہوں
مزے جمہوریت کے لے رہا ہوں
نشاط خسرواں ہے اور میں ہوں
الگ ہوں فتنہ دیر و حرم سے
خودی کا آستاں ہے اور میں ہوں
بجائے نالہائے روح فرسا
سرودِ نغمہ خواں ھے اور میں ہوں
کسی کو شک نہیں میری وفا پر
اُخوت کا جہاں ہے اور میں ہوں
شگفتہ ہے مرا دل اس چمن میں
بہارِ بے خزاں ہے اور میں ہوں
مرا ماحول ہے مہر و محبت
ہجومِ دوستاں ہے اور میں ہوں
ہر اک کرتا ہے میری ہم نوائی
خوشی کی داستان ہے اور میں ہوں
سبھوں کو ہمزبان پاتا ہوں میں اپنا
مری اردو زباں ہے اور میں ہوں
گل مقصد ہے زینت بخش دامن
عطائے باغباں ہے اور میں ہوں
کھلاتا ہوں شگوفے آشیاں میں
فروغ آشیاں ہے اور میں ہوں
جفا سے ہاتھ اٹھایا آسماں نے
موافق سا سماں ہے اور میں ہوں
چراغ روشن بزمِ طرب ہوں
گروہ خوشدلاں ہے اور میں ہوں
قدم لیتی ہے میری کامیابی
مرا بختِ جواں ہے اور میں ہوں
لئے رہتے ہیں جھرمٹ میں خریدار
محبت کی دکاں ہے اور میں ہوں
ہے پاکستان گہوارہ خوشی کا
زمین و آسماں ہے اور میں ہوں
نہیں کوئی محفل خلوت میں مری
مرا رطلِ گراں ہے اور میں ہوں
ملا ہے اجر اخترؔ بندگی کا
خدائے مہرباں ہے اور میں ہوں