غزل 37
Akhtar Asifi Peshawari
اگر ذوق تپش ہے آتش غم تیز کرتا جاتا
مئے حبِ وطن سے جام دل لبریز کرتا جاتا
پلا کر خون دل سر سبز رکھ کشتِ تمنا کو
نہال ملک کی ہر شاخ کو گلریز کرتا جاتا
فسانہ چھیڑ کر صبح وطن کا دشتِ غربت میں
شبِ دیجورِ غم کو روزِ عشرت خیز کرتا جاتا
نہ گھبرا دیکھ کر پست و بلند منزل الفت
اگر عزم سفر پختہ ہے جست و خیز کرتا جاتا
چلا دے دل کے آئینے کو ضبط شعلۂ غم سے
تمناؤں کے دریا کو طلاطم خیز کرتا جاتا
جفا ہے حسن کا شیوہ جفا سہنے کا خوگر بن
وفا کر اور وفا کو اشتیاق امیز کرتا جاتا
ہے ہونا کامیاب اخترؔ تو جدوجہد جاری رکھ
امیدوں کے سمندِ شوق کو مہمیز کرتا جاتا