غزل 66
Akhtar Asifi Peshawari
فغاں میں، آہ میں، فریاد میں آخر اثر دیکھا
کہ ہم نے مہرباں آج ان کو اپنے حال پر دیکھا
بتائیں کیا تمہارے ہجر میں کیا صبح تک گذری
دل حسرت زدہ کو رات بھر زیر و زبر دیکھا
کلی اُمید کی ہم نے کبھی کھلتے ہوئے دیکھی
نہ گلزار محبت میں پھلا پھولا شجر دیکھا
نتیجہ جستجو کا کچھ نہ نکلا وائے ناکامی
اگرچہ جابجا ڈھونڈا اگرچہ در بدر دیکھا
کفِ افسوس مل کر چارہ گر نے راہ لی اپنی
ترے بیمارِ غم کا حال جب نوع دگر دیکھا