چند قطرات اشک
Akhtar Asifi Peshawari
کائناتِ دِل کو رنج و غم کی دنیا کر دیا
اشک خونی کے ہر اک قطرے کو دریا کر دیا
سینہ صد چاک میں اک درد پیدا کر دیا
اے فلکِ بے درد ظالم تو نے یہ کیا کر دیا
چشم تر میری شرابِ یاس کا پیمانہ ہے
دل نہیں پہلو میں گویا آج اک غم خانہ ہے
کاروان ملت اسلام یہ کیا ہوگیا
آہ قومیت کا میر کارواں ہی کھو گیا
بیٹھے بیٹھے یا الٰہی ہم سے یہ کیا ہوگیا
چین سے آغوش تربت میں وہ جا کر سو گیا
محو تھے ہم جستجوئے منزل مقصود میں
کیوں نا ہو اب رنج اپنے قلب غم آلود میں
گلشنِ عشرت میں اب وہ کیف رنگ و بو نہیں
منچلی فطرت نہیں اب دل کوئی یکسو نہیں
کون کہتا ہے ترا ماتم یہاں ہر سو نہیں
فرط غم سے کس کی آنکھوں سے رواں آنسو نہیں
باغبان تُو کیا ہوا رخصت ہمارے باغ سے
تپ گیا ہے دل کا ہر زخم سوز داغ سے
شعلہائے یاس سے اب دل ہمارا جل گیا
لُو جب اُٹھی آتش غم کی کلیجہ جل گیا
برق بیتابی سے گلزار تمنّا جل گیا
الاماں اے سوز پہنائی کہ جو تھا جل گیا
اٹھ گیا وہ جسکی شفقت تھی دوائی درد دل
اٹھ گیا وہ لطف جس کا تھا شفائے درد دل
صبر لازم ہے مگر اب صبر کا یارا نہیں
اب سکون قلب کا باقی کوئی چارا نہیں
آہ ہم سا بھی جہاں میں رنج کا مارا نہیں
اپنی چشم شوق کے آگے تو بزم آرا نہیں
اب تو بے بس ہوچکے ہیں خاطر ناکام سے
رو رہے ہیں پھوٹ کر ہم جوشش آلام سے
فضل کر اُس پر کہ تھا وہ تیرے بندوں پر نثار
فضل کر اُس پر کہ تھا اسلام کا خدمت گزار
فضل کر اُس پر کہ تھا ایمان کا سرمایادار
فضل کر اُس پر کہ تھا وہ تیرا بدمست خمار
واسطہ تجھکو جناب سیّد مختار کا
واسطہ تجھکو کو تیری۔۔۔کا