غزل 80
Akhtar Asifi Peshawari
جی سے بیزار ہمارا دل ناشاد نہیں
زندگی کا سہارا خلش یاد نہیں
آہ لب پر نہیں نالہ نہیں فریاد نہیں
تیری بیداد ہمارے لئے بیداد نہیں
پوچھنے پر مرے تم سوچ میں کیوں ڈوب گئے
صاف کہ کیوں نہیں دیتے مجھے کچھ یاد نہیں
جز خس و خار وہاں کیا تھا جو گرتی بجلی
ہم نشیں دے نسیمن کی یہ روداد نہیں
یہ زمانہ وہ زمانہ ہے کہ کوئی انساں
زینت سرورق عالم ایجاد نہیں
تمکو زیبا نہیں پابندی قید فطرت
تم کوئی سرد نہیں تم کوئی شمشاد نہیں
گھٹ کے مر جاوں گا زنداں میں یہ ہو گا انجام
طاقت ضبط نہیں رخصت فریاد نہیں
تابہ محشر اسے رہنا ہے یو نہیں دامن گیر
خاک پامال وفا نگہت برباد نہیں
نہ کیا شاد اسے تیری نگاہوں نے کبھی
پھر بھی مایوس ہمارا دل ناشاد نہیں
کھو دیا کیفیت جلوہ بت نے ایسا
بیخودی کا ہے یہ عالم کہ خدا یاد نہیں
جو نگاہوں میں سمایا وہی دل میں بھی رہا
یہ خدا ہی نے کیا ہے خدا یاد نہیں
یاد گار اس کے ستم کی نہ مٹی ہے نہ مٹے
داغ دل شمع سر رہگذر یار نہیں
عقل پر چھا گئی زلفیں تری سودا بن کر
ترے قیدی کے خیالات بھی آزاد نہیں
نام روشن ھے مرا سلسلہ آصف میں
میں وہ اخترؔ نہیں جو پیروئے استاد نہیں