غزل 34
Akhtar Asifi Peshawari
ہلاکِ غمزہ ہائے دلربا ہوں
قتیل خنجرِ ناز و ادا ہوں
مری حالت پہ دنیا ہس رہی ہے
میں بدبختی پہ اپنی رو رہا ہوں
گرائے میکدہ کہتے ہیں مجھ کو
میں ساقی کی نگاہوں پر مٹا ہوں
یہ عالم ہے مری وارفتگی کا
خود اپنی جستجو میں کھو گیا ہوں
میں اک بت کو عقیدت کی بنا پر
خلوص دل سے سجدے کر رہا ہوں
تری رحمت ہے کچھ مجھ سے کشیدہ
خداوندا میں یہ کیا دیکھتا ہوں
زمانہ مجھ سے کھچتا جا رہا ہے
زمانے پر میں مٹتا جا رہا ہوں
علاج درد دل ممکن نہیں ہے
میں عاشق ہوں مریضِ لادوا ہوں
میں اخترؔ اپنی قسمت پر ہوں نازاں
که رکن بزم ارباب وفا ہوں