نغمہ نشاط
Akhtar Asifi Peshawari
پردہ شب سے ہوئی ہے صبح سعادت آشکار
چھا گئی سارے وطن پر رحمت پروردگار
بابِ رحمت براہے نازل ہورہی ہیں رحمتیں
شاہیں اسکی نگاہ لطف کے امید وار
دیدنی ہے اس کے الطاف و کرم کا جشن عید
خود اجابت آج ہوتی ہے دعاؤں پر نثار
اے ضیاء اے مرد حق اے عاشق دین متین
تو جمال الدین افغانی کا ہے آئینہ دار
مومنوں کے دل بنے ہیں سیر تو ستان طرف
اور بیاض رخ سے ہے نور مسرت آشکار
گل شگفتہ ہیں لب نمنچہ تبسُّم آشنا
نغمہ زن طائیر کہ روح افزاء ہے گلشن کی بہار
جام دل کا بھی لبالب تھا مئے اسلام سے
کردیا دو آتشنہ تو نے خدا کے نام سے
کر دیا ثابت زمانے پر شرف اسلام کا
مرحبا صد مرحبا اے ملک و ملت یر نثار
یہ نتیجہ ہے تیرے ایمان کا اخلاص کا
کامیابی کا انہی ہاتھوں پہ ہوتا ہے مدار
گونجتے ہیں ہر طرف نغمے مبارک باد کے
آج تیرے کامیابی پر وطن نغمہ زار
اے وطن تجھکو مبارک ہو نظام اسلام کا
میرے گلشن میں چلی آتی ہے یسرب سے بہار
اے ضیاء الحق مبارک آپ کو اعزاز نو
یہ شرف تیرا رہے گا ایک قومی یادگار