غزل 40
Akhtar Asifi Peshawari
ہے کسی محو نوحہ خوانی ہے
قبر عاشق کی یہ نشانی ہے
اس نے مقتل کی آج ٹھانی ہے
دیکھی کس کس کی جان جاتی ہے
دھونی در پر ترے رمانی ہے
اب یہی میں نے دل میں ٹھانی ہے
غم یہ کس کا ہے اے سراپا ناز
کیوں فسرده تری جوانی ہے
شیخ جی سے حرام ہے کیونکر
وہ تو اک تند و تیز پانی ہے
آبِ خنجر نے آج مقتل میں
اپنے دل کی لگی بجھانی ہے
ناز سے بولے شرح غم سن کر
کیسی دلچسپ یہ کہانی ہے
خبرِ مرگِ محتسب سن کر
گھر میں رندوں کے شادمانی ہے
وہ ہیں اور حسن کی نزاکت ہے
میں ہوں اور میری سخت جانی ہے
قرض کی دی ہے بعد مدت کے
بات پیر مغاں نے مانی ہے
ذکر میرا کریں وہ اے قاصد
جھوٹ ہے یہ غلط بیانی ہے
ترا شکوہ نہیں مرے لب پر
گلہِ جورِ آسمانی ہے
چشم مست ہے سرور انگیز
نشه زا عالم جوانی ہے
امتحانِ وفا کی سوجھی ہے
ان کو پھر شوقِ جانستانی ہے
دیکھ کر اس ہلالِ آبرو کو
شرم سے چاند پانی پانی ہے
کوئی جنت نہ کوئی دوزخ ہے
شیخ فرضی تری کہانی ہے
دختر زر نہیں ہے پیر مغاں کوئی
یہ کوئی حور اسمانی ہے
بت پرستی سے باز آ اخترؔ
صورت اللہ کو دکھائی ہے