غزل 63
Akhtar Asifi Peshawari
نہ کیوں مرغ چمن منقار اپنی زیر پر رکھے
صدائے زاغ پر بھی جب ملے داد غزل خوانی
غضب ہے یا نہیں اہل سخن کہنا خدا لگتی
ہر اِک خود ساختہ شاعر اگر کہلائے خاقانی
نہیں جس کو تکلم کا سلیقہ یہ کیا قیامت ہے
نظر والوں سے کرتا ہے وہ دعوئے سخندانی
کمال نقص ہے کامل سمجھنا خود کو ناقص کا
نہ یہ جائے تعجب ہے نہ یہ ہے جائے حیرانی
فریب اپنی نظر کا ہے کہ یہ نیرنگ عالم ہے
سر درباں پہ آتا ہے نظر کیوں تاج ملکانی
ہے داد سخن کیوں ناشناسوں سے مجھے اخترؔ
سخندانوں سے لے لیتا ہوں میں داد سخندانی