غزل 33
Akhtar Asifi Peshawari
جادہ عشق میں ترے ہمہ تن جوش ہوں میں
پھر بھی یہ ضبط کا عالم ہے کہ خاموش ہوں میں
آئینہ دار ترا ساقی مے نوش ہوں میں
محفل ناز میں اک پیکر خاموش ہوں میں
اپنی بیتابی الفت کا سبب کیا کہیں
دل ہے پہلو میں کہ صد حشر در آغوش ہوں میں
اتصالِ عدم و زیست ہے نکاره فروش
شاہد شیخ سے مقتل میں ہم آغوش ہوں میں
ان سے میں عرض تمنا جو کبھی کرتا ہوں
شرم کہتی ہے کہ مہر لب خاموش ہوں میں
ہے ازل ہی سے جو سرشارِ محبت ساقی
بلا نوش ہوں وہ میکدہ بردوش ہوں میں
دوره نالہ جانکاه پہ دیتا ہے صدا
شام حسرت کہیں جس کو وہ سیہ پوش ہوں میں
پھول ساغر میں ترے نگہت گل مری شراب
پیر میخانہ فطرت کا قدح نوش ہوں میں
کام ہے ترے تصور سے مجھے آٹھ پہر
حیف صد حیف ترے دل سے فراموش ہوں میں