ترانہ وحشت
Akhtar Asifi Peshawari
دشت کا ذکر چھیڑا ہے تو نے تو ہم نشیں
آ پہلے اپنے سر کو ادب سے جھکائیں ہم
چھیڑیں فسانہ ان کے فسون خلوص کا
اور ان کے حسن خلق کا قصہ سنائیں ہم
مشہور تھے وہ ساحر بنگالہ کیوں نہ آج
انکے کلام نفس سے جادو جگائیں ہم
مقصد ہے یوم وحشت بنگالہ کا رواج
اک اک غزل ترانۂ وحشت سے گائیں ہم
بھر بھر کے جام بادۂ شعر و سخن پڑھائیں
پائیں جو جام جم بھی نہ خاطر میں لائیں ہم
صدیوں میں آتی ہیں کہیں یہ خوبیاں نظر
جو دلنشیں ہوں کیسے انہیں بھول جائیں ہم
ان کا کلام دیتا ہے اخلاق کا سبق
پھر کیوں نہ فیض انکے سخن سے اٹھائیں ہم
اس شاعری کا نشہ جو ٹھہرے حرام بھی
ہر گز نہ اس گناہ سے دامن بچائیں ہم
اخترؔ ہے عام اس چمنِ شعر کی بہار
کیوں تازہ گل سخن کے نہ اس سے کھلائیں ہم