آج
Akhtar Asifi Peshawari
ہے دل کے آئینے پر جو گردِ ملال آج
شاید عدو کے گھر میں ہے وہ خوش جمال آج
اے گل ہمیں نہ وعدہ فردا پہ ڈال آج
دل سے ہمارے خارِ تمنّا نکال آج
تقدیر سے ہوئے ہیں وہ پرسان حال آج
اے چشمِ یاس قہر ہے شرح ملال آج
کل سادہ زندگی میں بھی لبریز عیش تھا
الفت میں دیدنی ہے اسی دل کا حال آج
ساقی نے محتسب کو بھی دھب پر لگا لیا
ورنہ حرام شے کو نا کہتا حلال آج
اک دن وہ آگیا تھا ہمارے فریب میں
دے گا نہ قرض کی ہمیں رندو کلال آج
اظہارِ شوق ہو نہ تقاضائے ضبط ہے
حسرت یہ کہتی ہے کہ کہو دل کا حال آج
گھبرا کے بزمِ غیر سے نکلے وہ خوبرو
اے جذب عشق اپنا دکھا دے کمال آج
بزمِ بُتاں میں ہے صفِ ماتم بِچھی ہوئی
اخترؔ نا کر گیا ہو کہیں انتقال آج
Published:اخبار شیرِ رنگون
The text of this poem was not fully legible from the original source and may be incomplete.