بھگوان رام
Akhtar Asifi Peshawari
آہ۔کیا یاد کرے ساقیِ گلفام ترا
قطرے قطرے کو ترستا ہے تہی جام ترا
مایہ فخر و مباہات ہے گر ذات تری
راحت قلب حزیں نام ہے ہر نام ترا
کیوں نہ میں تری بزرگی کا ترانہ گاؤں
والہ و شیفتہ مدت سے ہوں اے رام تیرا
موجبِ راحتِ دلِ غم میں بھی ہے یاد تری
باعث راحت جاں ذکر دل آرام ترا
تری افزونیِ الفت ہے سبب عرفاں کا
کیوں نہ گرویدہ ہو ہر اک دل ناکام ترا
رام کے اسوۂ عالی کا مقلد ہوں میں
مجھ کو اب خوف نہیں گردش ایام ترا
ان کے اعزاز کو کوئی مرے دل سے پوچھے
ورد کرتے ہیں جو دل سے سحر و شام ترا
تری تقدیس کی شاہد ہے کرامت تری
ہوگیا عالم اخلاص و وفا رام ترا
ہے صداقت تری خورشید کی صورت روشن
حق کی آواز حقیقت میں ہے پیغام ترا
تو نے باطل کا زمانے سے مٹایا ہے نشان
آج بھی باعث تعریف ہے یہ کام ترا
قدر کر دل سے تو دسرت کے پسر کی اخترؔ
تاکہ زمانے میں اچھا رہے انجام ترا
Published:اخبار روزنامہ دید بھارت لاہور
The text of this poem was not fully legible from the original source and may be incomplete.