دوستی
Akhtar Asifi Peshawari
کیا ہی غم افزا ہے ترتیب کتاب دوستی
مشتمل ہے رنج پر القصبہ باب دوستی
ہم تو ہیں ناآشنائے بوئے گلہائے مراد
اے خُشادہ دل کہ جو ہے کامیاب دوستی
درد فرقت رنج ناکامی ملال سبھی
اک دل بیکس پہ ہیں کیا کیا عذاب دوستی
عشق کے آئین میں داخل ہے جذبے کا لحاظ
چاک ہرگز نہونہ اے دل یہ حجاب دوستی
کیوں متاع ضبط کھو کر حلق میں رسوا ہوا
اے دل بے صبر اے خانہ خراب دوستی
قطرۂ اشک چیکدہ شرح جوشِ غم ہوا
مُظمراس نقطے میں ہے رازِ کتاب دوستی
جسکو دیکھو عشق کے انجام کا ہے شکوہ مند
کون اٹھاتا ہے یہاں لطفِ شبابِ دوستی
داغہائے عاشقی سے دل مرا معمور ہے
جلوہ فرما ہیں ہزاروں آفتاب دوستی
کیا کرے کوئی تمہاری دوستی کا حوصلہ
دشمنی سے تم تو دیتے ہو جواب دوستی
شکوہ بے مہرئے محبوب اخترؔ ہے گناہ
شرط الفت ہے کہ ہو دل میں حساب دوستی
Published:اخبار شیر رنگون