غزل 23
Akhtar Asifi Peshawari
یہ کیسا دور ہے ساقی یہ کیا دستور ہے ساقی
کسی کے پاس ہے تو اور کسی سے دُور ہے ساقی
ترستا ہے کوئی میخانے میں اک بوند پانی کو
کسی کے جام میں افشردہ انگور ہے ساقی
بھٹکتا ہے کوئی تاریکیوں میں تیرہ بختی سے
کسی کی راہ میں روشن چراغِ نور ہے ساقی
تیری بےاختیاری کا گماں بھی ہو نہیں سکتا
یقیں ہم کس طرح کر لیں کہ تو مجبور ہے ساقی
منور کر فروغِ مئے سے دل کی باطنی آنکھیں
اندھیری رات ہے اور میری منزل دور ہے ساقی
یہاں ہر وقت رہتا ہے مباحِ عیش کا عالم
فضائے میکدہ میں درد و غم کافور ہے ساقی
اسے دنیا و مافیہا سے کیا مطلب جہاں تو ہے
تیرا میخانہ ہے فردوس اور تو حور ہے ساقی
شراب التفاتِ ناز کا ایک جرعہ دیتا جا
که دل تیری محبت کے نشے میں چُور ہے ساقی
بجائے خوں رسا کرتی ہے بے کیفی سی اس میں سے
جدائی کا تری دل میں مرے ناسور ہے ساقی
تو ہوتا ہے تو روشن ہوتی ہیں شمعیں اُمیدوں کی
نہیں ہے تو تو مری شب شبِ دیجور ہے ساقی
تری چشم کرم کا فیض اسے سرشار رکھتا ہے
دل اخترؔ شرابِ عشق سے معمور ہے ساقی