شکایت ہے
Akhtar Asifi Peshawari
گلوں سے ہے گلہ مجھکو نہ خاروں سے شکایت ہے
مرے دامانِ خالی کو بہاروں سے شکایت ہے
کسی نے بھی نہ تھاما میرا دامن صحن گلشن میں
اگر گل چاک داماں تھے تو خاروں سے شکایت ہے
نظر آتی ہیں نظم میکدہ میں خامیاں بیحد
مجھے پیر مغاں کے پختہ کاروں سے شکایت ہے
مرے گھر تک اسے لانا تھا اپنی رہنمائی میں
مجھے اے چاندنی تیرے ستاروں سے شکایت ہے
مری آنکھوں میں کیا جوہر نہیں جلوہ شناسی کا
جو پردہ کرتے ہیں ان ماہ پاروں سے شکایت ہے
دل افسردہ کو رنگین نظاروں کی ضرورت تھی
خزاں سے کیا گلہ مجھ کو بہاروں سے شکایت ہے
نہ چھوڑا میکدے میں کوئی جرعۂ کیفیت افزا
مجھے بزمِ طرب کے بادہ خواروں سے شکایت ہے
کوئی پاتا نہیں مزدوری پوری رنج و محنت کی
جفاکش قوم کو سرمایہ داروں سے شکایت ہے
نگاہِ شوق گم کیفیتوں میں ہوتی جاتی ہے
تمہارے حسن کے دلکش نظاروں سے شکایت ہے
ہوئی ہے بے رخی سے بزمِ دل میں برہمی پیدا
جہانِ عشق کو غفلت شعاروں سے شکایت ہے
شبِ مہتاب و حسنِ یارو مینائے شراب اخترؔ
مجھے جلوں کے ان آئینہ داروں سے شکایت ہے