غزل 82
Akhtar Asifi Peshawari
غنچے سے پوچھ دیکھو گلستان سے کہو
وہ جان صد چمن ایمان سے کہو
مقصد یہ ہے وہ سن لے مرے شوق کا پیام
کہدو ضرور تم کسی عنوان سے کہو
کیوں میری لغزشوں کی کرو مجھ سے بازپرس
مئے کہو سبو سے خمستان سے کہو
جس حوصلے سے میں نے سنایا ہے دل کا حال
تم بھی خدا کرے اسی ارمان سے کہو
جانے دے مجھ کو کوئے بتاں میں بہشت سے
روکے نہ مجھ کو در پہ یہ رضوان سے کہو
انجام خون ناحق پروانہ سونچ لے
کیوں شمع دل جلاتی ہے نادان سے کہو
پھر فصل گل میں بادیہ پیما ہوا کوئی
کانٹوں کو تیز کرلے بیابان سے کہو
قربان جاؤں کیوں ہیں یہ کافر ادائیاں
کیا تم نے دل لیا نہیں ایمان سے کہو
کہئے تو کیا جواب دیں ہم اس مذاق کا
کہتے وہ ہیں کہ منہ سے سنو کان سے کہو
بلبل ترانہ گل کو سناتی ہے باغ میں
کچھ تم بھی اپنے چاک گریبان سے کہو
کیوں اڑ رہی ہیں چہرے پہ اخترؔ ہوائیاں
آتے ہو کس پری کے پرستان سے کہو