بات کرو
Akhtar Asifi Peshawari
دیارِ غیر نہ چین رختن کی بات کرو
جو بات کرنی ہے اپنے وطن کی بات کرو
گلگوں کا ذکر نہ سرودِ سخن کی بات کرو
بہار جس سے ہے تم اس سجن کی بات کرو
نظر فروز سہی موج اب رکنا باد
فضائے وادی گنگ و جمن کی بات کرو
یہ میکدہ ہے یہاں فکر عاقبت ہے حرام
شراب و شاهد و شعر و سخن کی بات کرو
براهِ راست بنا لو خدا کو اپنا صنم
نہ شیخ کی نہ کسی برہمن کی بات کرو
کشیدہ کچھ نظر آتا ہے وہ کمان آبرو
وہ چاہتا ہے میرے بانکپن کی بات کرو
کہو ان آنکھوں کو نرگس زبان کو سوسن
چمن کی بولی میں اس گل بدن کی بات کرو
سبو کلی کو قدح گل کو شاخ کو مینا
بہ استعاره مستاں چمن کی بات کرو
غزل سرا ہو جہاں اخترؔ شگفتہ مزاج
ہمارے سامنے اس انجمن کی بات کرو
Written:ڈھاکہ•October 1, 1960